بھٹکل، 5؍ اکتوبر (ایس او نیوز) بھٹکل ٹاون میونسپالٹی کی ملکیت والی 48 دکانیں دوبارہ نیلام ہونے والی ہیں اور پہلے مرحلہ کے طور پر جملہ 21 دکانوں کی نیلامی کے لئے کاغذی کارروائی شروع ہوگئی ہے ۔ جس کی وجہ سے ان دکانوں میں کاروبار چلانے والے پریشانی اور اضطراب کا شکار ہوگئے ہیں اور مزید مہلت پانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں ۔
یاد رہے کہ 2018 میں جب میونسپالٹی کی دکانیں بڑی تعداد میں نیلام کی جارہی تھیں تو ان دکانوں میں پہلے سے کاروبار کرنے والوں اور نئے خواہشمندوں کےدرمیان کافی کڑا مقابلہ ہوا تھا جس کے چلتے چھ سو اور سات سو روپے ماہانہ کرایہ والی دکانوں پر 80 ہزار اور ایک لاکھ روپے سے زائد کرایہ کی بولی لگائی گئی تھی ۔ اس مقابلہ کی وجہ سے اپنی دکانوں سے ہاتھ دھونے والے افراد میں سے 27 دکانداروں نے نیلامی کے اس طریقہ پر ہائی کورٹ سے رجوع کرکے دکانیں خالی کروانے پر اسٹے حاصل کیا تھا ۔ بعد میں اس معاملہ میں ہائی کورٹ نے ان دکانوں کو از سرنو نیلام کرنے کی ہدایت ٹی ایم سی کو دی تھی ۔
دوسری طرف جو لوگ عدالت نہیں گئے تھے ان کی دکانیں خالی کروانے اور ٹی ایم سی کے قبضے میں لینے کی کوشش ہوئی تو رامچندرا نامی ایک دکاندار نے ٹی ایم سی دفتر کی عمارت میں خود سوزی کرلی تھی اور اس کی موت کی وجہ سے معاملہ بڑا حساس ہوگیا تھا ۔ ٹی ایم سی کے خلاف پرتشدد مظاہرا بھی ہوا تھا اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد پر مقدمات بھی دائر ہوئے تھے، جس کی سماعت ابھی بھی عدالت میں جاری ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ہائی کورٹ نے دکانوں کی از سرنو نیلامی کی ہدایت تو کافی عرصہ پہلے دی تھی لیکن کووڈ کی وجہ سے انتظامی دشواریاں اس میں حائل تھیں اس لئے کافی تاخیر کے بعد اب یہ کارروائی آگے بڑھائی جارہی ہے ۔
اب اس کارروائی پر متعلقہ دکانداروں کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ پرانے بس اسٹانڈ کے قریب واقع ایک قدیم عمارت جو بہت ہی خستہ اور گرنے کے قریب ہے اس کے گراونڈ فلور کی دکانیں نیلامی میں رکھی گئی ہیں ، جبکہ اس عمارت کو ڈھانے تک پرانے کاروباریوں کو وہاں پر اپنا کام دھندا چلانے کی مہلت دی جاتی تو بہتر ہوتا ۔
بعض دکانداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیلامی کے لئے تقریباً دو ہفتوں کا وقت ہے اورمعمولی شیٹس کی چھپر والی جھونپڑی نما چھوٹی موٹی دکانوں کے لئے بھی نیلام میں شرکت کے لئے 80 ہزار تا 1 لاکھ روپے ڈپازٹ کی شرط رکھی گئی ہے ۔ رام ناتھ بلیگار نامی ایک دکاندار کا کہنا ہے کووڈ اور لاک ڈاون کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ایسی چھوٹی دکان والے اتنی کم مہلت میں کیسے اتنی بڑی رقم جمع کر سکتے ہیں ۔ اس مشکل گھڑی میں ٹی ایم سی کو دکانوں کی نیلامی میں اس طرح عجلت نہیں دکھانی چاہیے اور معمولی روزی روٹی کمانے والے چھوٹے دکانداروں کو سنبھلنے کے لئے کچھ مہلت دینی چاہیے ۔
ادھر ٹی ایم سی کے صدر پرویز قاسمجی کا موقف ہے کہ نیلامی کی یہ کارروائی عدالت کے حکم کے مطابق پوری شفافیت کے ساتھ کی جارہی ہے ۔ نیلامی میں جتنی تاخیر ہوگی ، ٹی ایم سی کو اتنا ہی نقصان ہوگا ۔ نیلامی کی پوری کارروائی اسسٹنٹ کمشنر کی صدارت میں انجام دی جائے گی ۔